حکومت کا خصوصی افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے بڑا قدام

حکومت کا خصوصی افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے بڑا قدام

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں خصوصی افراد کے لیے روزگار کے مواقع اور ادارہ جاتی معاونت کو مؤثر بنانے کے مقصد سے اسپیشل ایمپلائمنٹ ایکسچینج جاب پورٹل اور شکایات کے ازالے کے نظام کی تیاری کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے خصوصی افراد کو بااختیار بنانا سندھ ایمپلائیمنٹ آف پرسنز وتھ ڈس-ایبلٹیز ایکٹ 2018 کا بنیادی ستون ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری ڈی ای پی ڈی طاحہٰ احمد فاروقی، سکھر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس (سکھر آئی بی اے) کے وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرحمن سومرانی، ایچ او ڈی کمپیوٹر سائنس پروفیسر مجتبیٰ شیخ، کنسلٹنٹ ڈی ای پی ڈی عبدالصمد چنا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز وتھ ڈِس ایبلٹیز ایکٹ 2018 خصوصی افراد کے حقوق اور وقار کے تحفظ اور انہیں سماج میں مکمل شمولیت فراہم کرنے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت سندھ حکومت تعلیم، روزگار، صحت اور عوامی زندگی میں خصوصی افراد کو قانونی تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنے کی پابند ہے تاکہ وہ قومی دھارے میں خودمختار اور باوقار انداز میں حصہ لے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاج پرتحریک انصاف کی قیادت دودھڑوں میں تقسیم

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے تحت صوبے بھر میں خصوصی اداروں اور معاون نظاموں کے قیام کا تقاضا بھی کیا گیا ہے، جن میں خصوصی افراد کا مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنا اور سرکاری معذوری سرٹیفکیٹس اور کارڈز کا اجرا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہم دفعات میں ہر سرکاری محکمے میں خصوصی افراد کے لیے 5 فیصد ملازمت کوٹہ کا نفاذ، جامع تعلیمی پالیسیوں پر عمل درآمد، صوبہ بھر میں آگاہی مہمات کا انعقاد اور سالانہ پیش رفت رپورٹس کی تیاری شامل ہیں تاکہ قانون پر عمل درآمد اور اس کے اثرات کی نگرانی کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ قانون حقوق پر مبنی طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کے لیے سندھ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں خصوصی افراد کو بااختیار بنانا صوبے کی سماجی پالیسی کا مرکزی جزو ہے۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد وزیراعلیٰ نے سکھر آئی بی اے کے ساتھ اشتراک کی منظوری دی تاکہ ایک خصوصی جاب پورٹل تیار کیا جا سکے۔ اس نظام میں اے آئی پر مبنی جاب میچنگ اور سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ سندھ کے ہر خصوصی فرد کو بلا امتیاز اور باآسانی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ خصوصی افراد فیصلہ سازی اور سماجی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور ہر فرد کی منفرد صلاحیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل سندھ حکومت اور خصوصی افراد کو براہِ راست منسلک کرے گا جس سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں کو جوڑ دیا ہے تاکہ تمام صوبائی محکموں میں میرٹ پر مبنی بھرتی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی

وزیراعلیٰ نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیے بھی ایک نیا ڈیجیٹل نظام مربوط کیا جائے گا، تاکہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور ان کے مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل منصوبے پر برقت ٹائم لائن کے تحت عمل کیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سسٹم کا ابتدائی نمونہ فروری 2026 تک متوقع ہے جبکہ مکمل جاب پورٹل اور شکایات کے ازالے کے ماڈیولز بالترتیب مئی اور جولائی 2026 تک فعال ہو جائیں گے۔

Related Articles