ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی سپر 8 مرحلے تک رسائی کے بعد اب نظریں بڑے مقابلوں پر مرکوز ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا کہنا ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے جیسے دباؤ میں حکمتِ عملی، اعصاب اور درست کمبی نیشن فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں انٹری کےبعد کرکٹ ماہرین اور سابق کرکٹرز نے پاکستان کی ٹیم کو بہتر سائیڈ قرار دیا ہے جو پریشر گیمز بہتر انداز میں کھیلتی ہیں۔
سابق کھلاڑیوں کے مطابق ابتدائی 6 اوورز میں کم از کم 45 سے 55 رنز بنانا ضروری ہے، مگر وکٹوں کا تحفظ بھی ساتھ ساتھ اہم ہے۔ اوپنرز کو مثبت آغاز دینا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے میچ جیتنے کیلئے مڈل آرڈر کو اسٹرائیک روٹیٹ کرنی ہوگی۔ ڈاٹ بالز کم سے کم رکھنا اور آخری 5 اوورز کیلئے سیٹ بیٹر کا موجود ہونا ضروری ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے مطابق آخری چار اوورز میں یارکرز، سلوئر بال اور درست فیلڈ سیٹنگ میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ تجربہ کار بولرز پر انحصار بڑھانا ہوگا۔ بڑے میچ میں اعصابی برتری اہم ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کو جذبات پر قابو رکھتے ہوئے گیم پلان پر عمل کرنا ہوگا۔ غیر ضروری شاٹس اور جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
رن آؤٹ کے مواقع اور کیچز کا ضائع ہونا بڑے مقابلوں میں مہنگا پڑتا ہے۔ سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ فیلڈنگ کے معیار سے ہی چیمپئن ٹیم کی پہچان ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کے میچز کن ٹیموں کے خلاف ہوں گے؟

