پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز ’دی پنڈیز‘ اپنی حالیہ برانڈنگ اور ایک غیر ملکی ادارے کے ساتھ اشتراک کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
فرنچائز کی انتظامیہ نے لندن میں قائم کھیلوں کی برینڈنگ کے ساتھ شراکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایک جرات مندانہ، عصری اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل تشخص قائم کرنا ہے، تاہم اس اعلان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
قبل ازیں راولپنڈی سے منسوب اس فرنچائزکا نام تبدیل کر کے’پنڈیز‘رکھا گیا تھا، جسے بعض حلقوں نے خوش آئند قرار دیا، مگر حالیہ اشتراک نے بحث کو نیا رخ دے دیا۔
فرنچائز جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پنڈی اب عالمی منظرنامے پر نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ اقدام ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں صارفین نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے۔
خصوصاً غیر ملکی ادارے کے نام پر تنقید کی جا رہی ہے جسے بعض افراد نے مقامی مذہبی اور ثقافتی حساسیت کے منافی قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق ایسے نام سے وابستگی ایک مذہبی معاشرے میں نامناسب تاثر پیدا کر سکتی ہے اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
سماجی ذرائع پر بعض صارفین نے احتجاجاً ناپسندیدہ جانور کی تصاویر بطور علامت پیش کیں، جب کہ دیگر نے اسے شناخت سازی کے اعتبار سے غیر محتاط انتخاب قرار دیا۔
دوسری جانب حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی تجارتی نام ہے جسے بلاوجہ متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کھیلوں کی دنیا میں عالمی معیار اپنانے کے لیے بیرونی ماہرین سے تعاون معمول کی بات ہے اور اسے مذہبی یا ثقافتی تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں۔
تاحال فرنچائز کی انتظامیہ کی جانب سے اس تنقید پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی، تاہم سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ جاری ہے، کرکٹ شائقین اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔