وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان اپنے مہمانوں کا احترام کرتا ہے لیکن کسی کو بھی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان اور متعلقہ گروہوں کے ساتھ تعاون اور مہمان نوازی کا رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران بھی مشترکہ اہداف کے لیے ساتھ کام کیا گیا اور اس وقت بھی دونوں فریقوں کا ایک ہی مقصد تھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کا سہولت کار ہے۔ انہوں نے سراج الدین حقانی سے سوال کیا کہ اس الزام میں کتنی حقیقت تھی، اس کا جواب وہ خود دنیا کو دے سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور مکہ میں بھی صلح کے لیے کوششیں کی گئیں تاکہ فریقین کے درمیان اختلافات ختم ہوں، تاہم ان کوششوں کا مطلوبہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
حقانی صاحب آپکی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان کے ساتھ آپکے ساتھ کھڑا تھا ۔ آپ ھمارے مہمان رہے آپکے خاندانوں کی دھائیاں مہمانداری کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں لاکھوں ابھی بھی پاک سر زمین پہ پناہ گزین ھیں۔ ھماری پاک مٹی سے رزق کماتے ھیں۔ آپ بھی بمعہ… https://t.co/RlYy2oZlqS pic.twitter.com/PwTnyyH7ed
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 27, 2026

