ڈرائیونگ لائسنس کا نظام پیپر لیس اور کیش لیس کردیاگیا

ڈرائیونگ لائسنس کا نظام پیپر لیس اور کیش لیس کردیاگیا

 وفاقی وزیرِ داخلہ کی خصوصی ہدایات پر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور تجدید کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر کاغذی کارروائی اور نقد ادائیگی سے پاک بنا دیا ہے، اس اقدام کے بعد شہریوں کو نہ تو طویل کاغذی فارم بھرنے کی ضرورت رہے گی اور نہ ہی بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو کر فیس جمع کروانے کی مشقت برداشت کرنا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق نئے نظام کے تحت لائسنس کے حصول یا تجدید کا تمام عمل اب مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں انجام دیا جائے گا، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لائسنسنگ مراکز پر آتے وقت صرف اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ساتھ لائیں، جبکہ باقی تمام معلومات اور کارروائی موقع پر ہی جدید نظام کے ذریعے مکمل کر لی جائے گی۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق اس نئے طریقہ کار کا مقصد شہریوں کو غیر ضروری دفتری مراحل، ایجنٹ مافیا اور سفارش کلچر سے نجات دلانا ہے تاکہ ہر شہری کو شفاف اور بروقت سروس فراہم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے خوشخبری

حکام کا کہنا ہے کہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کرتے ہوئے پورے نظام کو خودکار بنایا جا رہا ہے جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے،مزید بتایا گیا ہے کہ لائسنس فیس کی ادائیگی کے لیے اب بینکوں میں جا کر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

شہری اب مختلف ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے فیس ادا کر سکیں گے، جس کے بعد انہیں لائسنسنگ کے عمل کو مکمل کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔

ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق اس نظام کی بدولت شہری چند ہی منٹوں میں اپنا لائسنس حاصل کرنے یا تجدید کا عمل مکمل کرنے کے قابل ہو جائیں گے،ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات شہری سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں تاکہ سرکاری خدمات کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور شفاف بنایا جا سکے۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کے مطابق مستقبل میں بھی دیگر سرکاری خدمات کو اسی طرز پر جدید بنایا جائے گا تاکہ عوام کو ایک آسان، تیز اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کیا جا سکے،حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔

editor

Related Articles