پاکستان نے آزاد جموں کشمیر سے متعلق حالیہ بھارتی بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع خطہ ہے اور پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی جارحانہ کوشش کو سختی سے ناکام بنا دے گا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ نئی دہلی کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات کی نہ تو کوئی قانونی وقعت ہے اور نہ ہی کوئی جواز، بھارت ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور وہاں کی ابتر صورتحال سے ہٹانا چاہتا ہے۔
ترجمان نے یاد دلایا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام سے حقِ خودارادیت کا جو وعدہ کیا گیا ہے، پاکستان اس کے پورے ہونے تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سفارتی مہم
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کے معاملے پر اہم تفصیلات سے آگاہ کیا۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستانی شہری گزشتہ تقریباً 50 روز سے صومالی قزاقوں کی تحویل میں ہیں، جن کی بحفاظت رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ زمینی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور حساس ہونے کے باعث اب تک اس معاملے میں پیش رفت محدود رہی ہے۔
یرغمالی پاکستانی شہری ایک بین الاقوامی کارگو جہاز پر موجود ہیں، جہاں ان کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی قید ہیں۔ حکومتِ پاکستان اس سنگین معاملے پر صومالی حکام، مقامی مقتدر فریقین اور جہاز کے مالک (شپ آنر) کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اس سلسلے میں سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کی، جس میں انہوں نے پاکستانیوں سمیت تمام یرغمالیوں کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت واپسی کے لیے صومالی حکومت کے متحرک کردار پر زور دیا۔
مزید برآں اسلام آباد میں تعینات صومالی سفیر کو بھی وزارتِ خارجہ طلب کر کے پاکستان کے شدید تحفظات ریکارڈ کرائے گئے ہیں، جبکہ ایک مربوط حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ سطح کے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جنگ بندی کا مطالبہ
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی موجودہ نازک صورتحال پر پاکستان کا اصولی مؤقف بیان کرتے ہوئے ترجمان طاہر اندرابی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے تمام عالمی و علاقائی فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا مکمل احترام کریں اور طاقت کے استعمال کے بجائے تنازعات کے مستقل حل کے لیے مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ پاکستان کا پختہ مؤقف ہے کہ خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا حل صرف بامقصد بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اس سلسلے میں اپنے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی نئی عسکری کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع اور وسیع تر معاشی و سیاسی عدم استحکام سے دنیا کو بچایا جا سکے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع 1960 کے ‘سندھ طاس معاہدے’ کے تحت کنٹرول ہوتا ہے، جس کی ضامن عالمی بینک ہے۔ حالیہ برسوں میں مودی حکومت نے کئی بار دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روک کر اسے بنجر کر دے گا۔
جسے بین الاقوامی قانون میں ’واٹر ٹیررازم‘ (پانی کے ذریعے دہشتگردی) کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر پر بھارتی قیادت کے بیانات بنیادی طور پر ان کے داخلی انتخابی بیانیے اور مقبوضہ وادی میں جاری جبر کو چھپانے کی ایک کوشش کا حصہ رہے ہیں۔