دبئی میں بڑا حملہ، ایران کا 160 امریکی فوجیوں میں سے 100 ہلاک کرنے کا دعویٰ

دبئی میں بڑا حملہ، ایران کا 160 امریکی فوجیوں میں سے 100 ہلاک کرنے کا دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں تعینات 160 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 100 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری تفصیلات میں بیایا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:تل ابیب لرز اٹھا: ایران کا اسرائیل پر بڑا جوابی وار، میزائل حملوں میں متعدد عمارتیں تباہ

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ حملے انتہائی منظم انداز میں کیے گئے اور بیک وقت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق دبئی میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر اچانک حملہ کیا گیا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔

کویت اور بحرین میں بھی حملوں کا دعویٰ

ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ کویت میں تعینات امریکی افواج کو درجنوں حملہ آور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح بحرین میں قائم امریکی اڈے پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جن سے فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحیرہ ہند میں تقریباً 650 کلومیٹر دور ایندھن بھرنے والے ایک امریکی بحری جہاز کو بھی میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ زمینی افواج نے باضابطہ طور پر جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں 230 حملہ آور ڈرون فضا میں چھوڑے، جس سے دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔

اسرائیلی کمان مراکز بھی نشانے پر

ایرانی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اہم اسرائیلی کمان مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تاحال امریکا یا متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے تک صورتحال غیر واضح رہے گی، تاہم خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *