مشرقِ وسطیٰ کو سنگین بحران میں دھکیلا جا رہا ہے، انتونیو گوتریس کااظہار تشویش

مشرقِ وسطیٰ کو سنگین بحران میں دھکیلا جا رہا ہے، انتونیو گوتریس کااظہار تشویش

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو سنگین بحران میں دھکیلا جا رہا ہے۔

انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتِ حال کے نتائج خطے سے باہر تک پہنچیں گے،  جنگ بندی اب جزوی جنگ بندی میں بدل چکی ہے، کیونکہ اس ہفتے وسیع تر حملے کیے گئے۔

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے کہا کہ خلیج فارس کے لیے نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت ہے جس کے تحت تمام ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ مکمل جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکا کو بھر پور جواب ، 18 اہم امریکی اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ

انتونیو گوتریس نے یہ بھی کہا کہ تمام فریق سفارتی سمجھوتے کی کوشش کریں، مزید حملے نہ کیے جائیں، مزید جواز بھی پیش نہ ہوں۔

واضح رہے کہ امریکا نے آج  رات تقریباً سوا دو بجے ایران کے مختلف مقامات پر نئے حملوں کا آغاز کیا تھا ، ان حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کر سکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں ؛ایران کے جوابی حملوں کا خوف، بحرین اور اسرائیل میں سائرن بج گئے

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کو ایک خطرناک مرحلے میں داخل کر چکی ہے، اگر دونوں ممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles