ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں امریکا کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران کویت میں واقع امریکی ال سالم اور احمد الجابر ایئربیسز سمیت بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات یا جانی خسارے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی حکام سے براہِ راست رابطہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے اور جنگی صورتحال سے بچنے کی امریکی کوششوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی ایئرو اسپیس فورس کے کمانڈر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا تو ایران پورے خطے کو امریکی مفادات کے لیے جہنم بنا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کی ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ادھر خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایرانی میڈیا نے خلیج فارس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی ایف-16 طیارے پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آبنائے ہرمز میں کسی امریکی جنگی جہاز پر حملے کی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر بمباری جلد روک دی جائے گی جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے جہاں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
علاقائی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک نے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تحمل اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر علاقائی تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت تیل کی رسد اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔