فیکٹ چیک : افغان طالبان کا پاکستان کی جانب سے ہسپتال پر حملے کا دعویٰ من گھڑت پراپیگنڈہ نکلا

فیکٹ چیک : افغان طالبان کا پاکستان کی جانب سے ہسپتال پر حملے کا دعویٰ من گھڑت پراپیگنڈہ نکلا

 افغان طالبان حکومت نے حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس میں پاکستان کی جانب سے ہسپتال کو نشانہ بنانے کا ایک بے بنیاد دعوی کیا جو کہ سراسرغلط اور گمراہ کن ثابت ہوا ہے۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری حقائق کے مطابق افغان ذرائع سے سامنے آنے والے وہ دعوے درست نہیں جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حملے میں کابل کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق تصاویر، مقامات اور دیگر شواہد کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ  ان پوسٹس میں ہدف کی غلط نشاندہی کی گئی اور پرانی تصاویر کو موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

 بیان میں کہا گیا کہ جس تصویر کو شہریوں کی ہلاکتوں کے دعوے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا، وہ دراصل کئی سال پرانی ہے،  یہ تصویر پہلی بار 2023 کے اوائل میں افغانستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی اور اب اسے دوبارہ حالیہ دعوؤں کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں پرانی تصاویر کا استعمال خبر کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے اور بیانیے کی درستگی مشکوک ہو جاتی ہے۔

حکام نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ  یہ حملہ کابل کے 2ہزار بستروں پر مشتمل اومید ہسپتال پر کیا گیا ہے ، ان کے مطابق ہسپتال محفوظ ہے اور گنجان آباد رہائشی علاقے میں واقع ہے۔

حکام نے کہا کہ اصل ہدف سرشار کیمپ امید تھا، جو کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی کے دوران اس مقام کو پہلے کیمپ فینکس کے نام سے جانا جاتا تھا، اور یہ اسلحہ  ساز و سامان اور گولہ بارود کے ذخیرہ سے منسلک ایک مقام ہے۔

مزید براں یہ ہسپتال اور مبینہ نشانہ بننے والی عمارت کے ڈھانچے میں واضح فرق بھی سامنے آیا ہے ، حکام کے مطابق ہسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے، جبکہ حملے کی تصاویر میں نظر آنے والا ڈھانچہ اس سے مختلف نوعیت کا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے ہیں،  حکام کا کہنا ہے کہ ایک طرف بڑے پیمانے پر تباہی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب انہی تصاویر میں ہسپتال کا سائن بورڈ اور جھنڈا محفوظ دکھائی دیتا ہے، جو کسی بڑے حملے کی صورت میں برقرار رہنا غیر معمولی بات ہے۔

حکام نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر یہ واقعی ایک شہری بحالی مرکز تھا تو اسے کسی ایسے مقام کے قریب کیوں قائم کیا گیا جہاں مبینہ طور پر فوجی نوعیت کا اسلحہ ذخیرہ کیا جاتا ہو ۔

 بحالی مرکز کے عینی شاہد نے بھی طالبان سے منسلک ذرائع کی طرف سے گردش کرنے والی حالیہ رپورٹوں کی تردید کی ہے، جو حالیہ حملے کی اصل نوعیت کو واضح کرتی ہیں۔

سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ یہ حملہ ہسپتال سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر ہوا، ہسپتال پر نہیں۔

عینی شاہد نے تصدیق کی کہ صرف معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں اور تمام زخمی افراد کی حالت بہترہے، جو کہ پہلے کیے گئے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے دعوؤں کے برعکس ہے۔

مزید یہ کہ علاقے میں اینٹی ایئر کرافٹ گن فائر کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حملے کا ہدف ایک فوجی تنصیب تھی، نہ کہ کوئی شہری طبی مرکز۔

عینی شاہد کے بیان نے اس غلط بیانیے کو بھی رد کر دیا ہے جس میں اس واقعے کو ہسپتال پر حملہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی،  یہ صورتحال جاری کشیدگی کے دوران مستند اور تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *