امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کے حوالے سے روسی صدر ہیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز دی تھی، جسے کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کا حصہ قرار دیا جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز اس سے قبل بھی دی جا چکی ہے، تاہم امریکا نے ماضی میں بھی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید جنگی جہاز اور تقریباً 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں 1348 افراد جاں بحق جبکہ 17 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیشکش رواں ہفتے ٹرمپ کے ساتھ فون کال میں دی تھی، دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیاکہ روس کی جانب سے یہ پیشکش پہلے بھی کی جاچکی ہے لیکن امریکا نے اسے قبول نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: ایران کی میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا دعویٰ

