بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، جن میں سب سے زیادہ افراد نے سعودی عرب کا رخ کیا۔
اسلام آباد: بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، جن میں سے 5 لاکھ 30 ہزار 256 افراد نے سعودی عرب میں ملازمت اختیار کی ، اس طرح مجموعی بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں تقریباً 70 فیصد سعودی عرب گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1971 سے وسط 2026 تک بیرون ملک رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 51 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ دہائیوں سے سعودی عرب پاکستان کے لیے سب سے بڑی اوورسیز لیبر مارکیٹ رہا ہے جہاں اب تک 78 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی ملازمت کر چکے ہیں، جو 1971 سے بیرون ملک جانے والے رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں کا 52 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔
اس فہرست میں متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 44 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روزگار حاصل کر چکے ہیں، جبکہ عمان میں 10 لاکھ 80 ہزار، قطر میں 4 لاکھ 88 ہزار 787، بحرین میں 2 لاکھ 97 ہزار 775 اور کویت میں 1 لاکھ 99 ہزار 275 پاکستانی کارکن رجسٹرڈ ہیں۔
صرف 2025 کے دوران سعودی عرب نے 5 لاکھ 30 ہزار 256 پاکستانی کارکنوں کو ملازمت دی، جبکہ قطر نے 68 ہزار 376، متحدہ عرب امارات نے 52 ہزار 664، بحرین نے 37 ہزار 726، عمان نے 9 ہزار 375 اور کویت نے 6 ہزار 590 پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 اور 2021 میں کورونا وبا کے باعث بیرون ملک روزگار کے مواقع میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم 2023 کے بعد صورتحال میں بہتری آئی اور پاکستان سے ہر سال 7 لاکھ سے زائد افراد روزگار کے لیے بیرون ملک جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں زیادہ تر ہنر مند اور نیم ہنر مند افراد شامل ہیں ، 2024 کے دوران سب سے زیادہ تعداد 3 لاکھ 64 ہزار 574 مزدوروں کی رہی، جبکہ 1 لاکھ 85 ہزار 209 ڈرائیورز، 14 ہزار 938 مستری، 10 ہزار 895 الیکٹریشن، 8 ہزار 18 انجینئرز اور 3 ہزار 642 ڈاکٹرز بھی بیرون ملک روزگار کے لیے روانہ ہوئے۔
ترسیلات زر
دوسری جانب خلیجی ممالک پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہیں ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم 30.25 ارب ڈالر تھی۔
ترسیلاتِ زر میں بھی سعودی عرب پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے 9.34 ارب ڈالر پاکستان بھیجے گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 7.83 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ دونوں ممالک سے مجموعی طور پر 17 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات آئیں، جو پاکستان کی کل ترسیلاتِ زر کا تقریباً نصف بنتی ہیں۔
اگرچہ 1971 سے اب تک پاکستانی شہری 50 سے زائد ممالک میں روزگار کے لیے جا چکے ہیں تاہم بیرون ملک ملازمتوں میں اب بھی خلیجی ممالک کا غلبہ برقرار ہے، جبکہ غیر خلیجی ممالک میں جانے والے رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں کی تعداد مجموعی تعداد کے 5 فیصد سے بھی کم ہے۔
ان نمایاں غیر خلیجی ممالک میں ملائیشیا، عراق، لیبیا، برطانیہ، اٹلی، قبرص اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔