گمراہ کن معلومات اور فرقہ ورانہ بیانیے کے خلاف علما کا کردار کلیدی ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

گمراہ کن معلومات اور فرقہ ورانہ بیانیے کے خلاف علما کا کردار کلیدی ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہلِ تشیع مکتبہ فکر کے جید علمائے کرام سے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی ملاقات کی ہے، جس میں قومی سلامتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، بالخصوص فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات کے خطرات پر خصوصی غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق ، پاک فضائیہ کے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے، خیبرپختونخوا کے عوام کا پاک افواج کو خراج تحسین

ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام علمائے کرام سے فرداً فرداً مصافحہ کیا، جسے شرکا نے خیر سگالی اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔  یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل نے اہلِ تشیع علمائے کرام سے  اپنے خطاب میں کہا کہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فرقہ وارانہ بیانیے اور جھوٹی خبروں کے خلاف علما کو فرنٹ لائن کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں انتشار کو روکا جا سکے۔

انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی دہشتگردی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو دشمن عناصر کو جہاں کہیں بھی ہوں گے وہاں جا کر بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

فیلڈ مارشل نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان بارہا افغان طالبان کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں، دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کریں اور سرحدی دراندازی کو فوری طور پر بند کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتکاری میں مصروف ہے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے علما سے اپیل کی کہ وہ مذہبی رواداری کو فروغ دیں اور کسی بھی بیرونی واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں تشدد کو ہوا دینے جیسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کو جواز بنا کر پاکستان میں ہنگامہ آرائی یا پرتشدد سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون حرکت میں آئے گا۔

مزید پڑھیں:684افغان طالبان ہلاک،912 سے زائد زخمی،252پوسٹیں تباہ ، عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے تازہ اعداد وشمار جاری کردئیے

ملاقات میں شریک علمائے کرام نے ملک میں امن، استحکام اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشدد کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے حلقوں میں امن، بھائی چارے اور برداشت کا پیغام عام کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اہم ملاقات کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں علما، سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے درمیان قریبی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ موجودہ حالات میں یہ ملاقات نہ صرف داخلی استحکام کیلئے اہم ہے بلکہ بیرونی خطرات کے تناظر میں ایک واضح قومی پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستان دہشتگردی، انتشار اور فرقہ واریت کے خلاف متحد ہے۔

Related Articles