عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں جن میں ٹیکس اصلاحات، ریونیو اہداف اور مختلف شعبوں میں نئی اسکیموں کے اجرا پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں خاص طور پر ریٹیلرز کے لیے نئی ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تجویز زیر بحث ہے تاکہ ریٹیل سیکٹر کو زیادہ مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں زرعی انکم ٹیکس کے اہداف مقرر کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کاشتکاروں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ زرعی آمدنی کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا سکے اور ریونیو میں اضافہ ممکن ہو۔
مذاکرات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھانے کے ہدف پر بھی بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق زیرو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد کم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس محاصل میں اضافے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران صوبائی سرپلس کے اہداف سے متعلق ابتدائی مشاورت بھی کی گئی ہے تاکہ مجموعی مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔