برطانیہ کی کابینہ میں بڑا سیاسی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد حکومت اور لیبر پارٹی کے اندر قیادت سے متعلق سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ویس اسٹریٹنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر اعتماد نہیں رہا۔ انہو ں نے کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ موجودہ قیادت لیبر پارٹی کو آئندہ عام انتخابات تک مؤثر انداز میں نہیں لے جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں حکومت کا حصہ بنے رہنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ یہ دیانتداری کے اصولوں کے بھی خلاف ہوگا۔ ان کے مطابق پارٹی اور حکومت کی موجودہ سمت پر سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ویس اسٹریٹنگ پارٹی کے اندر ایک ایسے گروپ کی قیادت بھی کر رہے تھے جو لیڈر شپ کو چیلنج کرنے کے حق میں سمجھا جاتا ہے۔ ان کے استعفے کو برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ویس اسٹریٹنگ کو خط لکھا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ حکومت سے ان کا علیحدہ ہونا افسوسناک ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود استحکام اور تسلسل کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد انتشار کے دور کو ختم کر کے ایک نئے اور مستحکم سیاسی دور کا آغاز کرنا ہے۔ تاہم اس استعفے نے لیبر پارٹی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے حوالے سے جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔