مشرق وسطی میں کشیدگی ،برطانوی اخبار کا سعودی عرب کے حوالے سے بڑا دعوی

مشرق وسطی میں کشیدگی ،برطانوی اخبار کا سعودی عرب کے حوالے سے بڑا دعوی

سعودی عرب کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی تجویز سامنے آئی ہے جس میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ اس تجویز پر ابتدائی مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف ممکنہ تنازع کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں مستقل کشیدگی کو کم کرنا اور ایک نئے سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں : پاکستان امریکا و ایران میں ثالثی کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، ترجمان دفترِ خارجہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاض اس عمل کے لیے 1970 کی دہائی کے ہیلسنکی عمل کو بطور ماڈل دیکھ رہا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کے بعد ایک کمزور لیکن زیادہ سخت گیر ایران خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق خلیجی ریاستوں کو یہ بھی تشویش ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے یورپی ممالک نے بھی سعودی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے دیگر خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس سفارتی کوشش کا حصہ بنیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور سعودی عرب میں توانائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق 

رپورٹ کے مطابق خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اسی تناظر میں یہ سفارتی کوشش ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles