ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین درجہ بندی میں دنیا کی بڑی ٹی 20 لیگز کی پوزیشنز نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حیران کن طور پر مالی لحاظ سے سب سے بڑی سمجھی جانے والی انڈین پریمیئر لیگ ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
گلوبل پلیئرز باڈی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ آئی پی ایل مالی وسائل، اسپانسرشپ اور عالمی شہرت کے اعتبار سے سب سے آگے ہے، تاہم مجموعی معیار، کھلاڑیوں کی سہولیات، میچ کنڈیشنز، مسابقتی توازن اور شیڈولنگ کے حوالے سے ابھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جدید کرکٹ میں صرف مالی طاقت ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کا تجربہ اور لیگ کا ڈھانچہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
درجہ بندی میں انگلینڈ کی دی ہنڈرڈ نے 75.2 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اس لیگ کا منفرد فارمیٹ، مختصر دورانیہ اور شائقین کیلئے آسان تفہیم اسے دیگر لیگز پر برتری دیتا ہے۔
دوسرے نمبر پر جنوبی افریقہ کی ایس اے ٹی 20 لیگ رہی، جس نے 68 پوائنٹس حاصل کیے۔ اس لیگ کو جدید انفراسٹرکچر، ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے مواقع اور بین الاقوامی معیار کی وجہ سے سراہا گیا۔
62.6 پوائنٹس کے ساتھ آئی پی ایل تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ معمولی فرق کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گئی۔ بگ بیش لیگ کو فیملی فرینڈلی ماحول اور مستقل ڈومیسٹک ٹیلنٹ کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔
پاکستان کی پاکستان سپر لیگ 48 پوائنٹس کے ساتھ 5ویں پوزیشن پر موجود ہے، جو اسے دنیا کی نمایاں لیگز میں شامل رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پی ایس ایل نے محدود وسائل کے باوجود معیار، مسابقت اور ٹیلنٹ پروڈکشن میں اپنی مضبوط پہچان بنائی ہے، تاہم اسے مزید بہتری کیلئے انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی شرکت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دیگر لیگز میں میجر لیگ کرکٹ 6ویں، انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 7ویں، کیریبین پریمیئر لیگ 8ویں، ابوظہبی ٹی 10 لیگ 9ویں اور بنگلہ دیش پریمیئر لیگ 10ویں نمبر پر رہی۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ عالمی سطح پر کرکٹ لیگز کے درمیان مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور نئی لیگز جدید طرزِ حکمرانی، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور شائقین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو بہتر بنا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی طور پر مضبوط سمجھی جانے والی لیگز کو بھی اب سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہی لیگز کامیاب ہوں گی جو نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوں بلکہ کھلاڑیوں کو بہتر ماحول، شفاف نظام اور شائقین کو دلچسپ مقابلے فراہم کریں۔ اس نئی درجہ بندی نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی کرکٹ میں توازن بدل رہا ہے اور ہر لیگ کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے مسلسل جدوجہد کرنا ہوگی۔