نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی امن و سلامتی سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے شہریوں کو مساوات، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت جیسے بنیادی اصولوں کی ضمانت دی ہے اور پاکستان ان تمام اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے ریاستوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کے حل کو یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے خطے میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھی مسلسل مذاکرات اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے، کیونکہ یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے ہر ممکن مخلصانہ سفارتی کوششیں کی ہیں اور اس عمل میں تعاون کرنے والے دوست ممالک کے شکرگزار ہیں۔
نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ تنازع گزشتہ آٹھ دہائیوں سے حل طلب ہے، جس کے حل کے لیے عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں اور پاکستان سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ معطلی کو تسلیم نہیں کرتا۔
انہوں نےکہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام یقینی بنانا ہوگا تاکہ تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔