مختلف شہر وں میں سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخنامے کے باوجود نان اور روٹی مقررہ قیمت پر دستیاب نہیں ہو سکے، نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں روٹی 20 روپے تک فروخت کی جارہی ہے جبکہ نان 30 روپے تک فروخت ہورہا رہے اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور عوامی سطح پر شکایات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامے اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے، جس کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے،متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد مؤثر طور پر نظر نہیں آ رہا۔
دوسری جانب نانبائیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آٹے، گیس اور دیگر پیداواری اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث موجودہ نرخوں پر نان اور روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ لاگت کے مطابق تیاری پر آنے والا خرچ سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ ہے، جو تقریباً 14 روپے تک پہنچ چکا ہے۔
نانبائیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں مقرر کی جائیں اور ہمیں سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئیے جائیں ۔
دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ یا تو سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے یا پھر قیمتوں کا ازسرِ نو جائزہ لے کر واضح اور عملی پالیسی تشکیل دی جائے، تاکہ عوام اور نانبائیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔