ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی گوگل نے آئی او ایس صارفین کے لیے ایک جدید اور مفت ڈکٹیشن ایپلیکیشن ’گوگل اے آئی ایج ایلیکونٹ ‘ خاموشی سے جاری کر دی ہے۔
یہ ایپلیکیشن آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بڑھتے ہوئے میدان میں ایک اہم اضافہ ہے جو انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر بھی تقریر کو اعلیٰ معیار کے تحریری متن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹیک کرینچ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ایپ گوگل کے ’جیما ‘ پر مبنی خودکار تقریر کی شناخت کے ماڈلز کا استعمال کرتی ہے۔ ایک بار ماڈلز ڈاؤن لوڈ ہو جانے کے بعد صارفین آف لائن رہتے ہوئے بھی ڈکٹیشن دے سکتے ہیں۔
اس ایپ کا انٹرفیس ناصرف لائیو ٹرانسکرپشن فراہم کرتا ہے بلکہ اس میں موجود ایک خاص ’پاز فنکشن‘ گفتگو کے دوران بار بار دہرائے جانے والے غیر ضروری الفاظ (فلر الفاظ) کو ہٹا کر جملوں کی وضاحت کو بہتر بناتا ہے۔ صارفین اپنی ضرورت کے مطابق متن کو ’کلیدی نکات‘، ’رسمی‘، ’مختصر‘ اور ’طویل‘ فارمیٹس میں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
ایپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت ’کلاؤڈ موڈ‘ ہے؛ اسے بند کرنے پر تمام پروسیسنگ مقامی طور پر آلے کے اندر ہی ہوتی ہے، تاہم اسے فعال کرنے پر ‘جیمنی‘ ماڈلز کے ذریعے متن کو مزید پالش کیا جا سکتا ہے۔
صارفین اپنے جی میل اکاؤنٹس سے مخصوص نام، تکنیکی اصطلاحات اور کلیدی الفاظ بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ اگرچہ فی الحال یہ ایپ صرف آئی فون صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
تاہم ایپ اسٹور کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا اینڈرائیڈ ورژن بھی جلد پیش کر دیا جائے گا جو اسمارٹ فونز میں ڈیفالٹ کی بورڈ کے طور پر کام کرے گا۔ اپریل 2026 کی یہ ریلیز اے آئی ٹولز کے استعمال میں ایک نئی جہت متعارف کرائے گی۔
گوگل طویل عرصے سے تقریر کی شناخت کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، لیکن ’آف لائن فرسٹ‘ اپروچ پر مبنی یہ ایپ پرائیویسی اور انٹرنیٹ سے آزادی کے حوالے سے ایک بڑا قدم ہے۔
ماضی میں زیادہ تر ٹرانسکرپشن ٹولز کلاؤڈ پروسیسنگ پر انحصار کرتے تھے، لیکن ’گوگل اے آئی ایج ایلیکونٹ‘ آلے کے اندر ہی پروسیسنگ کو ترجیح دیتی ہے، جو پیشہ ور افراد، صحافیوں اور طلباء کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔