لندن میں بھارتی چیف جسٹس کو کاکروچ بیان پر شرکاء نے گھیر لیا، ہزیمت کا سامنا

لندن میں بھارتی چیف جسٹس کو  کاکروچ  بیان پر شرکاء نے گھیر لیا، ہزیمت کا سامنا

بھارت کے چیف جسٹس سوریار کانت کو برطانیہ کے ایک تعلیمی ادارے میں منعقدہ تقریب کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب لیکچر کے دوران شرکاء نے ان سے سخت اور تنقیدی سوالات کیے جس سے تقریب میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

 لندن کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ اس لیکچر کے دوران بھارتی چیف جسٹس کو اس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب شرکاء نے بھارت میں جمہوریت، آزادی اظہار اور حکومت پر تنقید کرنے کے حق جیسے حساس موضوعات پر سوالات اٹھائے۔

ذرائع کے مطابق سوال و جواب کے سیشن میں اس وقت صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض شرکاء نے چیف جسٹس کے مبینہ متنازع بیان کا کروچ  کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی جس پر تقریب میں موجود ماڈریٹر نے مداخلت کی اور ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔

تقریب کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے احتجاج اور آواز بلند کرنے پر ہال میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ایک موقع پر ایک شریک نے بلند آواز میں کہا کہ ہمارا احترام کیا جائے جس کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے گیس صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی

بھارتی میڈیا میں اس واقعے کو نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور اور سوشل میڈیا پر سرگرم جین زی (Gen Z) تحریک سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس میں بھارت میں حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی بیانیے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے پر بھارتی عدلیہ یا چیف جسٹس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر بھی اب ریاستی شخصیات کو زیادہ سخت سوالات اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بن گیا ہے، جہاں مختلف صارفین اس تقریب کے دوران پیش آنے والے مناظر پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles