امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسیحی پیشوا پوپ لیو کے درمیان حالیہ بیان بازی کے باعث دونوں اہم شخصیات ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں اور ٹرمپ کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے پوپ لیو پر سخت تنقید کی ہے کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے
حالیہ دنوں میں پوپ لیو نے اپنے ایک خطاب میں دنیا بھر میں جاری جنگوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا انہوں نے کہا کہ تھا کہ دنیا مزید خونریزی کی متحمل نہیں ہو سکتی اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ طاقت کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیں۔ پوپ لیو کا یہ مؤقف خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور دیگر تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا، جسے عالمی امن کی ایک مضبوط اپیل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وفد دو طیاروں میں اسلام آباد پہنچا، جے ڈی وینس کا الگ طیارے میں سفر
ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں پوپ کا بڑا مداح نہیں ہوں میرے خیال میں پوپ لیو اچھا کام نہیں کر رہے پوپ لیو اگر کہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھار ہوں تو بری بات ہے۔ میرے خیال میں پوپ لیو جرائم پسند ہیں وہ جرائم کے معاملے میں پوپ لیو کمزور ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ “دنیا اتنی سادہ نہیں جتنی ویٹیکن سمجھتا ہے، بعض اوقات امن کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ “کمزوری دکھانے سے دشمن مضبوط ہوتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیان نہ صرف مذہبی قیادت اور سیاسی طاقت کے درمیان اختلاف کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی پالیسی سازی میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔یہ تنازعہ دراصل دو مختلف نظریات کی عکاسی کرتا ہے ایک جانب پوپ لیو کا امن، مکالمہ اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مبنی نقطۂ نظر، اور دوسری جانب ٹرمپ کا طاقت، دفاع اور اسٹریٹجک برتری پر زور دینے والا مؤقف۔