افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر بڑھتے تشدد، بلاجواز گرفتاریوں اور ظالمانہ سنسرشپ نے آزاد صحافت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن (اےایم ایس او) نے افغان طالبان کی زیرِ حراست صحافیوں شکیب احمدنظری، بشیر حاطف، حمید فرہادی اور دیگر کی حالت زارپرشدید تشویش کااظہار ہے۔
صحافتی تنظیم اے ایم ایس او کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم میں صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور ناجائزحراست نے خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ، افغان طالبان رجیم میں سچ بولنے والے صحافیوں کی آوازیں جبر، دھمکیوں اور سنسرشپ کے زور پردبائی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :یوگی آدتیہ ناتھ کی اُتر پردیش سے مسلمانوں کو بے دخل کرنیکی دھمکی، بی جے پی کی نفرت انگیز مہم بے نقاب
اےایم ایس او کے مطابق طالبان کے ہاتھوں گرفتار صحافی محض عوام تک سچ اور معلومات پہنچانے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری انجام دے رہے تھے، صحافیوں کی غیرقانونی حراست تمام بین الاقوامی معاہدوں اور مہذب اقدار کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم میڈیا اور صحافیوں پر بلاجواز پابندیاں لگا کر اپنی آمریت اورناکام پالیسیوں پرپردہ ڈالناچاہتی ہے ،انسانی حقوق کی سنگین پامالی، میڈیا پرپابندیاں اوردہشتگردوں کی سرپرستی اب افغان طالبان رجیم کی شناخت بن چکی ہیں۔
🚨🚨افغان طالبان رجیم نے آزادی صحافت کا گلا گھونٹ دیا، صحافتی تنظیم اےایم ایس اوکاسخت ردعمل!
افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے افغان طالبان حکومت میں صحافیوں پر بڑھتے تشدد، گرفتاریوں اور سخت سنسرشپ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت کے لیے خطرناک قرار دیا… pic.twitter.com/trsice26OF— Azaad Urdu (@azaad_urdu) April 13, 2026

