پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے ایک اہم تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں مفت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کر کے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نوجوانوں کو خود کفیل بنانے اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تربیتی پروگرام نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے جبکہ اس کی معاونت لائیو اسٹاک سے وابستہ شعبوں کے نمائندہ اداروں اور حکومتی سطح پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے پروگراموں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے شعبوں میں تربیت فراہم کرنا ہے جہاں مقامی اور عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پروگرام کے تحت فش فارمنگ، گوشت کی پراسیسنگ اور محفوظ بنانے کے طریقے، کولڈ چین مینجمنٹ، برآمدی نقل و حمل سے متعلق مہارتیں اور دیگر عملی شعبوں میں تین ماہ کی مفت تربیت دی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والے افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انتظامیہ کے مطابق تربیتی مراکز پشاور اور مردان میں قائم کیے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کے لیے عمر کی حد 18 سے 40 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ کم از کم تعلیمی قابلیت مڈل یا میٹرک رکھی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نشستیں محدود ہیں اس لیے اہل امیدواروں کو جلد از جلد درخواست جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں اور رجسٹریشن کے لیے سرکاری پورٹل استعمال کیا جائے گا۔ پروگرام میں شامل نوجوانوں کو عملی تربیت، فنی رہنمائی اور متعلقہ شعبوں کی ضروری مہارتیں سکھائی جائیں گی تاکہ وہ مستقبل میں بہتر روزگار حاصل کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں۔