متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی رہائشیوں کے لیے ایک اہم اور سہولت پر مبنی نظام موجود ہے جس کے تحت ویزہ منسوخی یا مدت ختم ہونے کے بعد افراد کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کے بجائے ایک مخصوص مہلت فراہم کی جاتی ہے۔ اقدام کا مقصد غیر ملکیوں کو اپنی قانونی حیثیت درست کرنے یا متبادل انتظامات کرنے کے لیے مناسب وقت دینا ہے، تاکہ وہ کسی مشکل یا غیر یقینی صورتحال کا شکار نہ ہوں۔
رپورٹس کے مطابق اگر کسی غیر ملکی کا رہائشی ویزا منسوخ ہو جائے تو اسے عام طور پر 30 دن سے لے کر 6 ماہ تک کا گریس پیریڈ دیا جاتا ہے۔ اس مدت کا انحصار ویزے کی نوعیت اور متعلقہ کیٹیگری پر ہوتا ہے۔ اس دوران متعلقہ فرد کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ یا تو نیا ویزا حاصل کرے، نئی ملازمت تلاش کرے اور اپنی رہائش کو قانونی طور پر برقرار رکھے، یا پھر باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق ملک چھوڑ دے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت ایسے افراد کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے بہتر فیصلے کر سکیں اور کسی قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔ ویزا منسوخی کے بعد جاری کیے جانے والے دستاویز میں واضح طور پر آخری تاریخ درج ہوتی ہےجس کے اندر اندر متعلقہ فرد کو اپنی حیثیت تبدیل کرنا یا ملک سے روانگی اختیار کرنا لازمی ہوتا ہے۔
اس عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈنٹٹی سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی نے ایک آن لائن سروس بھی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے افراد اپنے ویزا کی حیثیت اور مہلت کی مدت باآسانی معلوم کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاسپورٹ کی معلومات، امارات آئی ڈی یا فائل نمبر سرکاری سسٹم میں درج کر کے تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام غیر ملکیوں کے لیے ایک اہم ریلیف ہے جو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچاتا ہے بلکہ روزگار اور رہائش کے تسلسل کو بھی بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔