باجوڑ کے رہائشیوں کا طالبان رجیم کی جانب سے سرحدی علاقوں میں سول آبادی پر گولہ باری پر سخت ردعمل

باجوڑ کے رہائشیوں کا طالبان رجیم کی جانب سے سرحدی علاقوں میں سول آبادی پر گولہ باری پر سخت ردعمل

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں سرحد پار سے ہونے والی حالیہ گولہ باری کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

گزشتہ رات افغانستان کی جانب سے ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں باجوڑ کے تین شہری شہید ہوگئے، جس کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہو گئی، ادھرباجوڑ کے علاقےکٹ کوٹ میں افغان جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے دو بچوں سمیت تین افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی

نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت،سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران نے متاثرہ گھر کا دورہ بھی کیا اور لواحقین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

باجوڑ کے مکینوں نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا،عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز ہمہ وقت چوکس اور پرعزم ہیں

باجوڑ، افغان طالبان کی سویلین آبادی پر گولہ باری ،سیکیورٹی فورسز کا منہ توڑ جواب،افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ،کئی دہشتگرد جہنم واصل

مقامی رہائشیوں نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، شہریوں کے مطابق اس طرح کے حملے کھلی جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ انسانی اقدار کے بھی منافی ہیں۔

باجوڑ کے عوام نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ مشکل حالات میں بھی افغان عوام کو پناہ اور سہولت فراہم کی گئی۔

اس کے باوجود سرحدی علاقوں میں اس قسم کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جس قوم کو بھائی سمجھ کر دل میں جگہ دی گئی، آج اسی طرف سے گولہ باری ہونا انتہائی دکھ اور مایوسی کا باعث ہے۔

یہ بھی پڑھیں :افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

شہریوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کی،انہوں نے کہا حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے حل کی بجائے دیگر معاملات پر مرکوز ہےسرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ اب تک صرف بیانات اور اعلانات کیے گئے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ کمزور دکھائی دیتی ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر سرحدی علاقوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔

شہریوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے گی، تاکہ معصوم جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *