چین نے اپنا نیا خلائی مشن شینژو-23 کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا ہے، جو 2030 تک انسان کو چاند پر بھیجنے کے ہدف کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مشن چین کے شمال مغربی علاقے صحرائے گوبی میں واقع جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ’’لانگ مارچ 2 ایف‘‘راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ چینی خلائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ خلائی جہاز کامیابی سے مدار میں داخل ہو چکا ہے اور تمام خلاباز محفوظ ہیں۔
اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی بار ایک چینی خلاباز کو ایک سال تک خلا میں رکھنے کا تجربہ کیا جائے گا، تاکہ مائیکرو گریویٹی کے انسانی جسم پر طویل المدتی اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ تحقیق مستقبل میں چاند اور مریخ کے طویل مشنز کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اس مشن میں 43 سالہ لائی کا یِنگ بھی شامل ہیں، جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون خلاباز بن گئی ہیں۔ وہ اس سے قبل ہانگ کانگ پولیس کا حصہ رہ چکی ہیں۔ ان کے ساتھ خلائی انجینیئر ژو یانگ ژو اور سابق ایئر فورس پائلٹ ژانگ ژی یوآن بھی اس مشن کا حصہ ہیں۔
ادھر چین کے خلائی پروگرام سے متعلق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ منصوبوں کے تحت تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر ایک غیر ملکی خلاباز کو بھی شامل کیا جائے گا، جس کا تعلق پاکستان سے ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
چین 2026 میں اپنے نئے خلائی جہاز’’مینگ ژو‘‘کا تجرباتی ٹیسٹ بھی کرنے جا رہا ہے، جسے مستقبل میں انسانی مشنز کو چاند تک لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔