سابق سی آئی اے ریسرچر اور تجزیہ کار لارِی جانسن نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والا دھماکہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکلہ یہ اسرائیل نے پاکستان کو ایک واضح پیغام دیا ہے اور اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتا ہے۔
لارِی جانسن کے مطابق چند سال قبل ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں بلوچوں کے ایک گروپ کو ایران کے اندر دہشت گرد حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا۔ ان کے مطابق اس گروپ کو دو افراد نے بھرتی کیا جو خود کو امریکی ظاہر کر رہے تھے اور امریکی ڈالر استعمال کر رہے تھے تاہم وہ موساد کے اثاثے تھے۔ لارِی جانسن نے کہا کہ جب امریکا کو اس معاملے کا علم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچوں (دہشتگرد بی ایل اے) اور اسرائیلیوں کے درمیان ایک دیرینہ خفیہ تعلق رہا ہے جسے ایران اور پاکستان کے اندر بدامنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے حملے کو الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ براہ راست اسی صورتحال سے متعلق ہے۔
لارِی جانسن نے کہا کہ بلوچوں (دہشتگرد بی ایل اے) کے ایران اور پاکستان دونوں کے ساتھ مسائل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ ایک مبینہ بغاوت کی کوشش کے دوران بلوچوں (دہشتگرد بی ایل اے) اور کردوں کو بھرتی کیا جا سکتا تھا۔
ان کے مطابق بلوچ 1979-80 میں بھی سرگرم رہے، جب انہوں نے امریکا کو ایسی انٹیلی جنس فراہم کی جو تہران میں امریکی یرغمالیوں کو بچانے کی ناکام کوشش میں استعمال ہوئی۔ لارِی جانسن نے کہا کہ اس لحاظ سے یہ تعلق کم از کم 46 سے 47 سال پرانا ہے۔