امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور بحری ٹریفک کی بحالی پر چینی صدر شی جن پنگ نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا ہے۔
اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک خصوصی بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے چینی ہم منصب اس بات پر ’بہت خوش ہیں کہ آبنائے ہرمز اب کھلا ہے اور تیزی سے مکمل بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے‘۔
صدر ٹرمپ نے چین کے اپنے آنے والے دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات ’ایک خاص اور ممکنہ طور پر تاریخی‘ ہوگی۔ انہوں نے پرامید لہجے میں لکھا کہ ’میں صدر شی کے ساتھ ملاقات کا منتظر ہوں، اس دورے میں بہت کچھ حاصل کیا جائے گا!‘۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحری تناؤ میں کمی اور عالمی سپلائی چین کی بحالی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی منڈیوں میں اعتماد کی فضا پیدا کی ہے، کیونکہ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے اس کی معیشت براہِ راست متاثر ہو رہی تھی۔
آبنائے ہرمز گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکا اور ایران کے درمیان شدید فوجی اور بحری تناؤ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے آبی گزرگاہ بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
چین، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرتا ہے، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک تھا۔
صدر ٹرمپ کا یہ تازہ ترین بیان ظاہر کرتا ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کوئی مفاہمت طے پا چکی ہے، جس کا مقصد سمندری راستوں کو محفوظ بنانا اور ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے عالمی تجارت کو نقصان سے بچانا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دورۂ چین اس سلسلے میں ’فائنل ڈیل‘ ثابت ہو سکتا ہے۔