خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے اپنی بحری طاقت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا تعینات کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑے امریکی جنگی جہازوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق USS George H. W. Bush طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکا ہے اور اب یہ امریکی افواج کی آپریشنل سرگرمیوں کا حصہ بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مشرقی وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑےکی تعیناتی کے بعد ایران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز پہلے بحرِ ہند میں موجود تھا اور 23 اپریل کو اسے باقاعدہ طور پر United States Central Command کے دائرۂ اختیار میں شامل کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ بحری بیڑا خطے میں سکیورٹی صورتحال کی نگرانی کرے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Nimitz-class aircraft carrier USS George H.W. Bush (CVN 77) sails in the Indian Ocean in the U.S. Central Command area of responsibility, April 23. pic.twitter.com/oDcTM6YMLF
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 23, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں جہاز کے عرشے پر بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے دیکھے جا سکتے ہیں، جو اس کی جنگی تیاری اور طاقت کا واضح اظہار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس نئی تعیناتی کے بعد عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے

