ایران کے شہر مناب میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے اسکول کے بچوں کے والدین نے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو خط لکھ دیا ہے۔
خط میں والدین نے پوپ لیو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہید بچوں کی آواز عالمی سطح پر بلند کی اور ان کا پیغام ہتھیار رکھ دیے جائیں یقیناً سنا جائے گا۔ والدین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس حملے پر کوئی معذرت سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مناب میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں بچیوں سمیت 160 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس کی مذمت کی۔
پوپ لیو حالیہ جنگ اور خطے میں جاری خونریزی کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریاتی مخالف سمجھے جاتے ہیں اور وہ مختلف مواقع پر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی یومِ دختران کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ مناب اسکول کی معصوم بچیوں سمیت تمام شہدا کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچیاں رمضان کے دوران مسلط کی گئی جنگ کے پہلے دن دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئیں اور ایرانی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔