پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی اہم اور مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ کارروائی 19 اپریل 2026 کو دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز اور خارجیوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں وحید اللہ عرف مختیار اور ایک خودکش بمبار شامل ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ، بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
خارجی رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختیار سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر متعدد حملوں میں مطلوب تھا اور وہ 21 فروری 2026 کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی سہولت کار (ماسٹر مائنڈ) بھی رہا تھا۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ علاقے میں کسی بھی دوسرے ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
یہ کارروائی آپریشن ‘عزمِ استحکام’ کے تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک سے دہشتگردی کی لعنت کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وطنِ عزیز میں امن کی بحالی تک دہشتگردوں کے خلاف ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
خیبر پختونخوا کا ضلع بنوں حالیہ مہینوں میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں کا نشانہ رہا ہے، جہاں 21 فروری 2026 کو ایک بڑے خودکش حملے نے امن و امان کی صورتحال کو چیلنج کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید متحرک کیا تاکہ نیٹ ورک کے سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔ وحید اللہ عرف مختیار کی ہلاکت اس نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ نہ صرف اسٹرٹیجک منصوبہ بندی کرتا تھا بلکہ خودکش بمباروں کو ہدف تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔
آپریشن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت کی جانے والی یہ حالیہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف ایک منظم اور جارحانہ حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے تاکہ شمالی علاقوں میں معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو دوبارہ پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔