کرایہ داروں اور مالک مکان کے لیے اہم خبر آگئی کیونکہ دونوں کیلئے رجسٹریشن کا عمل لازمی قرار دیا گیا ہے، اس حوالے سے حکام نے سخت کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
سندھ میں بغیررجسٹریشن کے رہائش اختیار کرنا اب مہنگا پڑ سکتا ہے، اور ایسی صورت میں کرایہ داروں کے ساتھ ساتھ مالک مکان کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور جیل کی ہوا کھانی پڑسکتی ہے ۔
حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران سندھ میں عارضی رہائش اختیار کرنے والے غیر رجسٹرڈ افراد کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے۔
ضلع ساؤتھ پولیس نے اس سلسلے میں مجموعی طور پر 39 مقدمات درج کیے ہیں، جن میں مختلف علاقوں سے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ان مقدمات میں اب تک 54 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صدر پولیس نے سب سے زیادہ کارروائیاں کرتے ہوئے 8 مقدمات درج کیے، جن میں 15 افراد کو گرفتار کیا گیا، اسی طرح کلفٹن پولیس نے بھی 8 مقدمات درج کیے اور 10 افراد کو حراست میں لیا، ڈیفنس کے علاقے میں بھی کارروائی عمل میں لائی گئی جہاں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام کرایہ دار اور مالک مکان فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے ۔