آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورت حال اس وقت شدید کشیدہ ہو گئی جب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے کے شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ اور پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور متعدد سیکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق متاثرہ سیکیورٹی اہلکار معمول کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے فرائض انجام دے رہے تھے کہ اسی دوران کالعدم تنظیم سے منسلک شرپسند عناصر نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ اہلکاروں پر بہیمانہ تشدد بھی کیا جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے ۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب عناصر نے اس نوعیت کی پرتشدد کارروائیاں کی ہوں۔ اس سے قبل بھی یہ گروہ مختلف علاقوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عوامی حقوق کے نام پر کیے جانے والے احتجاجی بیانیے کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر کوئی گروہ پرامن جدوجہد کے بجائے ہتھیار اور تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف قانون کی عملداری متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہری بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انتظامی ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہےعلاقائی سطح پر اس واقعے کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تاہم حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں تاکہ صورتحال کو جلد معمول پر لایا جا سکے۔