جوہری کانفرنس میں امریکا اور ایران کے نمائندے ایک دوسرے پر برس پڑے، سخت جملوں کا تبادلہ

جوہری کانفرنس میں امریکا اور ایران کے نمائندے ایک دوسرے پر برس پڑے، سخت جملوں کا تبادلہ

اقوام متحدہ میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے نفاذ سے متعلق کانفرنس میں ایران کو بھی نائب صدر منتخب کر لیا گیا۔ امریکا کا شدید اختلاف اس موقع پر امریکا اور ایرانی مندو بین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

امریکی نمائندے کرسٹوفر یوو نے کہا کہ ایران کا بطور نائب صدر انتخاب ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی توہین ہے۔ایران ایٹمی پروگرام پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے

ایران کے نمائندے رضا نجفی  نے امریکی مندوب کے بیان کو بے بنیاد اور سیاسی نقطہ نظر کی ترجمانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کی واحد ریاست ہے جو ایٹمی ہتھیار استعمال کر چکی ہے اور اب ایٹمی عدم پھیلاؤ کے نفاذ کے لیے ثالث بھی بننا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران کی نئی شرائط مسترد کر دیں،امریکی وزیر خارجہ مارکو ربیو نے سخت ردعمل بھی دے دیا

رضا نجفی کا کہنا تھا کہ ایران دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کر رکھے ہیں جب کہ اسرائیل نے اب تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

این پی ٹی کے نفاذ پر منعقدہ گیارہویں کانفرنس کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں نے 34 نائب صدور کا انتخاب کیا گیا۔

editor

Related Articles