انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے متصل شہر بیکاسی میں گزشتہ رات دو ٹرینوں کے درمیان ایک ہولناک تصادم میں 14 افراد جان کی بازی ہار بیٹھے جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ بیکاسی ریلوے اسٹیشن پر اس وقت پیش آیا جب ایک لوکل کمیوٹر ٹرین اور ایک طویل فاصلے کی مسافر ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کمیوٹر لائن آپریٹر کی ترجمان کرینا اماندا کا بتانا ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ مسافروں اور ٹرین عملے کے انخلاء پر مرکوز ہے ، انڈونیشیا کے ریلوے آپریٹر کی ترجمان نے ایک تحریری بیان میں تصدیق کی کہ اب تک 14 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 80 زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
انڈونیشین پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر سوفمی ڈاسکو احمد نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریسکیو آپریشن جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
عینی شاہدین کے مطابق امدادی کارکن بوگیوں کے دھاتی ڈھانچے کو کاٹنے کے لیے مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان مسافروں کو نکالا جا سکے جو بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں مگر زندہ ہیں ، اسٹیشن پر کم از کم 20 ایمبولینسیں اور انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کے اہلکار امدادی کاموں میں مصروف نظر آئے۔
جکارتہ کے پولیس چیف، اسیپ ایڈی سوہیری نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے، ریلوے حکام اور پولیس مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔