پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ’معرکہ حق‘ کو دشمن کی مکاری اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ برتری کے ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اس معرکے میں اپنی غیر معمولی جرات اور اسٹرٹیجک مہارت سے دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے ہیرو، لیفٹیننٹ کرنل محمد شاہزیب رفیع کی داستانِ شجاعت آج ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر رہی ہے۔ آرٹلری یونٹ کی کمانڈ سنبھالتے ہوئے انہوں نے جس طرح دشمن کی جارحیت کا رخ موڑا، اس نے جنگ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
6 اور 7 مئی کی وہ فیصلہ کن رات
فوجی ذرائع کے مطابق 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب دشمن نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس نازک صورتحال میں لیفٹیننٹ کرنل محمد شاہزیب رفیع کو جوابی کارروائی کا حکم ملا۔
انہوں نے کمالِ مہارت سے اپنی یونٹ کو متحرک کیا اور دشمن کی پوزیشنز پر ایسی بھرپور اور درست گولہ باری کی کہ دشمن سنبھل نہ سکا۔
ان کی قیادت میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے متعدد بریگیڈ اور بٹالین ہیڈکوارٹرز لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ دشمن کی مارٹر پوزیشنز جہاں سے شہری آبادی پر گولے برسائے جا رہے تھے، انہیں بھی کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، جس سے دشمن کو ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
تمغہ بسالت کا اعزاز
وطنِ عزیز کے دفاع میں مثالی کارکردگی اور دشمن کے اعصاب پر چھا جانے والی بہادری کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے لیفٹیننٹ کرنل محمد شاہزیب رفیع کو ’تمغہ بسالت‘ سے نوازا ہے۔
اس موقع پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے غازیِ وطن نے کہا ’اگر دشمن نے دوبارہ کبھی پاکستان کے حوصلے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت اور عبرتناک جواب دیا جائے گا‘۔
معرکہ حق اور آرٹلری کا کردار
’معرکہ حق‘ مئی 2025 میں اس وقت چھڑا جب بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستانی حدود میں اشتعال انگیزی کی، کسی بھی جنگ میں آرٹلری (توپ خانہ) کو ’میدانِ جنگ کا بادشاہ‘ کہا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل شاہزیب کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دشمن کے ان مقامات کو نشانہ بنایا جو انتہائی حساس اور تزویراتی لحاظ سے اہم تھے۔
دشمن کا مقصد شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیلا کر دباؤ بڑھانا تھا، لیکن پاک فوج کی آرٹلری نے جوابی گولہ باری سے دشمن کے توپ خانے کو خاموش کرا کے عوام کا تحفظ یقینی بنایا۔ یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ درست قیادت اور عزم سے جیتی جاتی ہیں۔
اسٹرٹیجک مہارت اور نفسیاتی برتری
لیفٹیننٹ کرنل محمد شاہزیب رفیع کی کارروائی کا تجزیہ کیا جائے تو چند اہم نکات سامنے آتے ہیں کہ آرٹلری فائر میں درستی سب سے اہم ہوتی ہے۔ دشمن کے ہیڈ کوارٹرز کو براہِ راست ہٹ کرنا ان کی تکنیکی مہارت اور انٹیلیجنس کی درستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک کمانڈر کا اصل امتحان دباؤ کی حالت میں ہوتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں جب دشمن حملہ آور تھا، انہوں نے اپنی یونٹ کے مورال کو بلند رکھا اور نظم و ضبط کے ساتھ جوابی حملہ منظم کیا۔
بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کی تباہی نے دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مفلوج کر دیا، جس کی وجہ سے وہ مزید پیش قدمی کرنے کے قابل نہ رہا، یہ معرکہ حق میں پاکستان کی مجموعی فتح کا ایک اہم ستون ثابت ہوا۔