حکومتِ پاکستان نے شہریوں کو پاسپورٹ کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے اور دفاتر میں طویل انتظار سے بچانے کے لیے پاسپورٹ سسٹم کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں قومی پاسپورٹ سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے اہم تزویراتی فیصلے کیے گئے۔
انسانی مداخلت کا خاتمہ اور شفافیت
ترجمان محکمہ پاسپورٹ کے مطابق، نئے اقدامات کا بنیادی مقصد پاسپورٹ کے حصول کے عمل میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا ہے۔
جدید ترین ٹیکنالوجی کو سسٹم کا حصہ بنا کر درخواستوں کے طریقہ کار کو خودکار (آٹومیٹڈ) بنایا جائے گا، جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ بدعنوانی کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔
اجلاس میں ڈی جی امیگریشن نے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ پاسپورٹ کے اجراء میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو مقررہ وقت کے اندر پاسپورٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
پاسپورٹ سسٹم کے موجودہ چیلنجز
پاسپورٹ کے حصول کے لیے شہریوں کو گزشتہ چند سالوں سے کئی سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے، ماضی میں لیمینیشن پیپرز کی کمی اور پرانی پرنٹنگ مشینوں کی وجہ سے لاکھوں پاسپورٹس کا بیک لاگ جمع ہو گیا تھا، جس سے شہریوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑا۔
حکومت نے پہلے ہی ای پاسپورٹ (چپ والے پاسپورٹ) کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اس کی رسائی تمام شہروں تک مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ موجودہ فیصلہ اس عمل کو ملک گیر سطح پر تیز کرنے کی کڑی ہے۔
دفاتر کے باہر موجود ایجنٹ مافیا اور عملے کی ملی بھگت سے عام شہری کو دشواری ہوتی تھی۔ ڈیجیٹلائزیشن اس نظام کو براہِ راست شہری اور محکمے کے درمیان جوڑ دے گی۔
ڈیجیٹلائزیشن کے دوررس اثرات
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، آن لائن اپوائنٹمنٹ اور ڈیجیٹل ڈیٹا انٹری سے دفاتر میں رش کم ہوگا، جس سے شہری کا قیمتی وقت بچے گا۔
جدید الگورتھمز اور بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیقی عمل تیز ہوگا، جس کے نتیجے میں ارجنٹ اور نارمل پاسپورٹ کی تیاری کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق ڈیجیٹل سسٹم پاکستان کے سفری دستاویزات کی ساکھ کو عالمی سطح پر بہتر بنائے گا، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔
توقع ہے کہ اس فیصلے کے تحت موبائل ایپس کو مزید بہتر کیا جائے گا تاکہ شہری گھر بیٹھے اپنی درخواست کا اسٹیٹس چیک کر سکیں۔