امریکا، ایران اور اسرائیل سے جڑے تنازع پر کسی واضح معاہدے یا مستقل پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی سطح پر صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے جس کے اثرات بین الاقوامی تیل مارکیٹ پر نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں حالیہ دنوں قیمتوں میں کمی کے بعد خام تیل ایک بار پھر مہنگا ہونا شروع ہوگیا ہے کیونکہ سرمایہ کار خطے میں کشیدگی، ممکنہ جنگی خطرات اور سفارتی تعطل کے باعث محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی سے قبل یہی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔
عرب میڈیا کے مطابق اتوار کے روز بھی عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد یہ 106.99 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی جو مسلسل بڑھ رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے
امریکا ایران تنازع مذاکرات میں تعطل اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی عالمی رسد اور قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ اگر سفارتی سطح پر واضح پیش رفت نہ ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور اضافے کا امکان موجود ہے جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی توانائی لاگت اور معاشی دباؤ کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔