ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی اب ختم ہو چکی۔ ٹرمپ انتظامیہ

ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی اب ختم ہو چکی۔ ٹرمپ انتظامیہ

ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ختم ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں اب مزید فوجی کارروائی کے لیے امریکی کانگریس سے منظوری کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قانونی تشریح کا مقصد وائٹ ہاؤس کو اس پابندی سے بچانا ہے جس کے تحت کسی بھی طویل فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازم ہوتی ہے۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکی یا اسرائیلی افواج کے درمیان کوئی براہِ راست جھڑپ نہیں ہوئی اس لیے وار پاورز ریزولوشن کے تحت 60 دن کی حد مکمل ہونے کے باوجود اسے جاری جنگ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات اسلامی دنیا سے تعلقات سمیٹنے لگا،3 اہم مسلم ممالک کیلئے سفری پابندی لگا دیں

اسی قانون کے مطابق اگر کوئی فوجی کارروائی 60 دن سے زیادہ جاری رہے تو صدر کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہوتی ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ چونکہ 7 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے اور فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا اس لیے قانونی طور پر یہ تنازع ختم تصور کیا جانا چاہیے۔

ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والا فوجی تنازع اب ختم ہو چکا ہے کیونکہ جنگ بندی کے بعد عملی طور پر کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحریہ کی جانب سے بعض ایرانی تیل بردار جہازوں پر پابندیاں اور ناکہ بندی کی صورتحال بھی موجود ہے تاہم وائٹ ہاؤس اس صورت حال کو فعال جنگ تسلیم نہیں کر رہا۔

اس مؤقف پر امریکی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ واقعی جنگ کا خاتمہ ہے یا صرف قانونی تقاضوں سے بچنے کی ایک نئی تشریح۔

editor

Related Articles