متحدہ عرب امارات نے ایران، لبنان اور عراق کے لیے اپنے شہریوں کے سفر پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ان ممالک میں موجود اماراتی شہریوں کو فوری طور پر وطن واپسی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سرکاری طور پر اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی اور شہریوں کے تحفظ سے جوڑا گیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض وقتی سکیورٹی ردعمل نہیں بلکہ یو اے ای کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، جس میں علاقائی تعلقات زیادہ محتاط اور محدود انداز میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات کے مختلف مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب کے ساتھ بعض پالیسی اختلافات، پاکستان کے ساتھ مالی معاملات پر کشیدگی، اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی فاصلے جیسے عوامل شامل کیے جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اب ایران، لبنان اور عراق پر سفری پابندی کو ایک بڑے رجحان کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو اے ای کی خارجہ پالیسی اب روایتی بلاک سیاست سے ہٹ کر زیادہ “مفاداتی اور سکیورٹی بیسڈ” سمت اختیار کر رہی ہے، جس میں بعض ممالک کے ساتھ روابط کو حالات کے مطابق سخت یا محدود کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حامی حلقے اس فیصلے کو مکمل طور پر شہریوں کے تحفظ اور خطے کی غیر یقینی صورتحال سے جڑا ایک ضروری اقدام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے حساس خطوں میں سفر محدود کرے۔
تاہم مجموعی طور پر اس اقدام نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ صرف سکیورٹی پالیسی ہے یا پھر مسلم دنیا کے بعض ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی دوری کا اشارہ بھی۔