خیبر پختونخوا پولیس کے 3 ماہ میں فتنہ الخوارج کے خلاف 1087 آپریشنز، 3 اہم کمانڈرز سمیت 283 دہشت گرد گرفتار

خیبر پختونخوا پولیس کے 3 ماہ  میں  فتنہ الخوارج کے خلاف 1087  آپریشنز، 3 اہم کمانڈرز سمیت 283 دہشت گرد گرفتار

خیبر پختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے فتنہ الخوارج کے خلاف 1087 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے اور 283 دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار دہشت گردوں میں 3 اہم کمانڈرز اور ایک خاتون خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان کارروائیوں کے دوران 108 دہشت گرد اور اشتہاری ملزمان ہلاک ہوئے۔ پولیس پر اس دوران 194 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں سے 106 حملوں کو جدید حکمت عملی اور فورٹیفیکیشن کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

سی ٹی ڈی نے مختلف کارروائیوں میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا جن میں 24 ایس ایم جیز، 55 ہینڈ گرینیڈ، 21 پستول، ایک خودکش جیکٹ اور 1700 کلوگرام سے زائد بارودی مواد شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 59 پولیس اہلکار شہید جبکہ 88 زخمی ہوئے۔ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 7771 مقدمات درج کیے گئے اور 7751 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران 5695 کلوگرام چرس، 275 کلوگرام افیون، 210 کلوگرام ہیروئن، 847 کلوگرام آئس اور 22 ہزار لیٹر سے زائد شراب برآمد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: انرجی سیکیورٹی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے، وزیراعظم

پولیس نے 5528 اشتہاریوں کو گرفتار کیا اور 66 اشتہاری پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 6684 سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کیے گئے جن میں 21531 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 22028 سنیپ چیکنگ کے دوران 43221 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پشاور میں 2.23 ارب روپے کی لاگت سے سیف سٹی منصوبے کا افتتاح بھی کر دیا گیا ہے، جس کے تحت شہر کی نگرانی 711 جدید کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ صوبے میں امن و امان میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

Related Articles