ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی درخواست کی ہے اور ایران اس درخواست پر غور کر رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی درخواست اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ امریکا ایران پر مسلط کی گئی جنگ میں اپنے کوئی مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔
دوسری جانب امریکا پہلے سے دعوی کرتا رہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے بے چین ہے اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف ٹوئٹس بھی ان دعووں کی عکاسی کرتے ہیں اور وہ اپنے مختلف بیانات میں ایرانی کی بے بسی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اس سے قبل روس نے بھی امریکا ایران تنازع میں ثالثی کی پیشکش کی تھی ماسکو میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد کہا روس خطے کے ملکوں اور خصوصاً ایران کے مفادات میں جو ممکن ہوا کرے گا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری جاری رہے گی۔
ایرانی وزیرخارجہ نے اس موقع پر کہا کہ روس ایران تعلقات اسٹریٹیجک شراکت داری پر مبنی ہیں جو مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔ عباس عراقچی نے ایران کی حمایت پر روسی صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔