مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں عالمی بینک نے 2026 میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل اور گیس کی رسد متاثر ہونے سے قیمتوں میں مجموعی طور پر 24 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی مئی تک کم بھی ہو جائے تب بھی توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ تاہم اگر صورتحال مزید خراب ہوئی اور سپلائی لائنز متاثر رہیں تو قیمتوں میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں نے عالمی تیل سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 2026 میں 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ 2025 میں یہ 69 ڈالر فی بیرل رہی تھی۔
اگر تیل و گیس کی اہم تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا یا تجارتی راستے بحال نہ ہو سکے تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بتدریج اکتوبر تک معمول کی سطح کے قریب آ سکتی ہے، تاہم مکمل استحکام کا انحصار خطے کی مجموعی صورتحال پر ہے۔