آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، مگرپُر تعیش روسی یاٹ کیسے گزر گئی؟ نئی بحث شروع

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، مگرپُر تعیش روسی یاٹ کیسے گزر گئی؟ نئی بحث شروع

عالمی سیاست اور بحری گزرگاہوں کے حساس ترین مقام آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے باوجود ایک پُرتعیش سپر یاٹ ‘نورڈ’ کی نقل و حرکت نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

شپنگ پلیٹ فارم ’میرین ٹریفک‘ کے اعداد و شمار کے مطابق  142 میٹر طویل یہ یاٹ، جس کی مالیت تقریباً 50 کروڑ ڈالر ہے، جمعہ کو دبئی کی مرینا سے روانہ ہوئی اور ہفتے کی صبح کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو عبور کرتے ہوئے اتوار کو مسقط پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کیلئے نقصان دہ یا فائدہ مند؟ حیران کن انکشاف

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فروری 2026 سے ایران نے اس آبی گزرگاہ پر سخت بحری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، لیکن اس یاٹ کو بغیر کسی رکاوٹ کے راستہ مل گیا۔

پوٹن کے قریبی ساتھی سے تعلق اور پابندیاں

رپورٹس کے مطابق یہ یاٹ روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسلک ہے، جنہیں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر اس کے مالک درج نہیں، مگر 2025 کے کارپوریٹ ریکارڈز کے مطابق یہ یاٹ ان کی اہلیہ کی ایک کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین جنگ کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے الیکسی مورداشوف پر کڑی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اثاثے دنیا بھر میں زیرِ بحث رہے ہیں۔

یاٹ کی خصوصیات

صنعتی جریدے ‘سپر یاٹ ٹائمز’ کے مطابق ‘نورڈ’ دنیا کی مہنگی ترین اور پُرتعیش یاٹس میں شمار ہوتی ہے۔ اس کثیر منزلہ جہاز میں 20 رہائشی کمرے، سوئمنگ پول، ہیلی پیڈ اور گہرے سمندر میں جانے کے لیے ایک آبدوز بھی موجود ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور موجودہ بحران

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین ’چوک پوائنٹ‘ یا بحری شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کی کل تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہاں ہونے والی کسی بھی قسم کی بندش عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

فروری 2026 سے جاری ایران اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ایران نے اس راستے پر اپنی گرفت سخت کر دی ہے تاکہ مغربی ممالک کے بحری جہازوں اور ان کے اتحادیوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

پابندیوں کے شکار روسی اشرافیہ گزشتہ 2 برسوں سے اپنے بحری جہازوں اور اثاثوں کو ایسے ممالک کی بندرگاہوں پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں مغربی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، جیسے دبئی اور عمان وغیرہ۔

واضح رہے کہ اس پُرتعیش یاٹ کا حساس علاقے سے بحفاظت گزرنا محض ایک سفر نہیں بلکہ گہری سفارتی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے، ایران کی جانب سے اس یاٹ کو راستہ دینا تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کا ثبوت ہو سکتا ہے۔

ایران نے جہاں مغربی جہازوں کے لیے راستے بند کیے ہیں، وہیں روسی مفادات کو تحفظ دینا اس کے نئے اتحاد کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یاٹ کا مسقط پہنچنا عمان کی اس روایتی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ عالمی تنازعات میں خود کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے ہر فریق کے لیے اپنی بندرگاہیں کھلی رکھتا ہے۔

امریکا اور یورپ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود اس قدر قیمتی اثاثے کا بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ حرکت کرنا ان پابندیوں کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

Related Articles