منور ظریف کو دنیا سے رخصت ہوئے 50 برس گزر گئے لیکن ان کی مسکراہٹ، برجستہ مزاح اور بے مثال اداکاری آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری میں ان کا نام ایک ایسے فنکار کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے مزاح کو صرف تفریح نہیں بلکہ ایک مکمل فن بنا دیا۔
وہ گوجرانوالہ کے ایک فنکار گھرانے میں پیدا ہوئے اور اداکاری کا ہنر جیسے وراثت میں ملا ہو۔ اپنے بڑے بھائی، لیجنڈری کامیڈین ظریف کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزاح کو اپنی الگ پہچان دی۔
صرف 16 سال کے مختصر مگر شاندار کیریئر میں انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں کام کر کے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو آج بھی قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ ان کی مشہور فلموں میں بنارسی ٹھگ، نوکر ووہٹی دا، موج میلہ، بدتمیز، چکر باز، دامن شامل ہیں جہاں ان کی اداکاری نے ہر کردار کو یادگار بنا دیا۔
منور ظریف اور اداکار رنگیلا کی جوڑی پاکستانی سنیما کی وہ پہچان تھی جسے دیکھنے کے لیے شائقین سینما گھروں کا رخ کرتے تھے۔ جب یہ دونوں اسکرین پر آتے تو ہنسی اور کامیابی ایک ساتھ چلتی تھی۔
ان کا مزاح صرف مکالموں تک محدود نہیں تھا۔ چہرے کے تاثرات، جسمانی حرکات اور بے مثال ٹائمنگ نے انہیں ایک مکمل فنکار بنا دیا تھا جو ہر سادہ منظر کو بھی خاص بنا دیتا تھا۔
29 اپریل 1976 کو صرف 36 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کی کمی آج بھی پاکستانی فلم انڈسٹری میں محسوس کی جاتی ہے۔ برسی کے موقع پر مداح، فنکار اور شوبز حلقے انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
منور ظریف صرف ایک اداکار نہیں تھے، وہ پاکستانی مزاح کی وہ پہچان تھے جس کی چمک وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی، بلکہ اور بھی روشن ہو گئی ہے۔