بھارت کی ہوا بازی کی صنعت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ملک کی تین بڑی ایئرلائنز انڈیگو، ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ان کی پروازیں معطل ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز جو ان بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے نے بھارتی وزارت شہری ہوا بازی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتوں پر حد مقرر کی جائے اور اس پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کو عارضی طور پر ختم کیا جائے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ حالات میں ایئرلائنز کا کاروباری ماڈل غیر پائیدار ہو چکا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صنعت سنگین بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے جس کے براہ راست اثرات بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پر پڑ رہے ہیں۔ عام طور پر ایندھن ایئرلائنز کے مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً 40 فیصد ہوتا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں یہ شرح 55 سے 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس نے کمپنیوں کے لیے آپریشن جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور فضائی راستوں کی بندش کے باعث نہ صرف پروازوں میں کمی آئی ہے بلکہ ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث بھارت کے سیاحتی شعبے پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں جس سے آمدنی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارت کو پہلے ہی علاقائی فضائی حدود کی بندش اور عالمی تنازعات کے باعث اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے، جس نے ایوی ایشن انڈسٹری کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔