نئی دہلی ’برکس پلس‘ اجلاس، بھارت کی جگ ہنسائی، مشترکہ اعلامیہ تک جاری نہ ہوسکا، بھارت کی ناقابل تلافی سفارتی سبکی

نئی دہلی ’برکس پلس‘ اجلاس، بھارت کی جگ ہنسائی، مشترکہ اعلامیہ تک جاری نہ ہوسکا، بھارت کی ناقابل تلافی سفارتی سبکی

بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والا ’برکس پلس‘  اجلاس بھارت کے لیے ایک سنگین سفارتی ناکامی میں بدل گیا ہے۔ گروپ کے اندر گہرے اختلافات کھل کر سامنے آنے کے بعد یہ اہم اجلاس کسی بھی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی ختم ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی قیادت میں ہونے والے اس اجلاس میں مغربی ایشیا کے تنازعات، خاص طور پر غزہ اور اسرائیل فلسطین مسئلے پر کوئی متحدہ مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکا، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے اثر و رسوخ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان برکس میں شامل ہوکر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے،وزیر خزانہ

مشترکہ بیان کے بجائے صرف ایک ’غیر جانبدار چیئر خلاصہ‘ جاری کیا گیا جس میں محض ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا گیا، جو کہ بھارت کی سفارتی کوششوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

اختلافات کے اہم نکات اور اسرائیلی مؤقف

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے اسرائیل کے حق میں جھکاؤ اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرنے والی زبان کو نرم کرنے کی کوششوں کو روس، چین اور ایران کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران نے مطالبہ کیا کہ برکس کو ایک سخت ’مغربی مخالف‘ مؤقف اپنانا چاہیے، جسے مودی حکومت نے نظر انداز کر دیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے برکس ممالک کی اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا کہ امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی جائے، جس نے گروپ کے دیگر ارکان کو مزید متنفر کر دیا۔

برکس پلس اور بھارت کا بدلتا ہوا کردار

برکس (برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ) اب ایک وسیع تر گروپ ’برکس پلس‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی شامل ہیں

2025 اور 2026 کے دوران غزہ، لبنان اور ایران اسرائیل کشیدگی نے برکس ممالک کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف روس، چین اور ایران ہیں جو مغربی مداخلت کے سخت مخالف ہیں، جبکہ دوسری طرف بھارت ہے جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

برکس کا ایک بڑا ایجنڈا ’ڈی ڈالرائزیشن‘ یا مقامی کرنسیوں کا فروغ ہے، لیکن بھارت اپنی عالمی معاشی پالیسیوں کے باعث اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے، جو گروپ کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہے۔

ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ اختلافات نے بھی اجلاس کے ماحول کو تلخ بنائے رکھا، جسے حل کرنے میں بھارتی سفارت کاری ناکام رہی ہے۔

Related Articles