پاکستان کی ایک اور سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل نے بڑی بات مان لی

پاکستان کی ایک اور سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل نے بڑی بات مان لی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان میں قیام امن کے لیے  جاری مشن (انمیس) کی مدت میں 30 اپریل 2027 تک توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اس اہم قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں سلامتی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

پاکستان نے امن مشن کے تسلسل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم مشن کی ساخت میں ممکنہ تبدیلیوں پر اپنے اصولی تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔

مشن کے بنیادی مقاصد اور ترجیحات

سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ مشن کی بنیادی ترجیحات میں شہریوں کا تحفظ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی، امن معاہدے پر عملدرآمد میں تعاون اور انسانی حقوق کی کڑی نگرانی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سوڈان ایسی کھائی میں دھنستا جارہا جس کے اثرات ناقابل تصورہیں: اقوام متحدہ کا انتباہ

کونسل نے زور دیا کہ جنوبی سوڈان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے ان ترجیحات کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

پاکستان کا مؤقف اور تحفظات

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی سوڈان میں استحکام کا خواہاں ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنا ایک خطرناک فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نفری میں کمی سے نہ صرف شہریوں کے تحفظ کا عمل متاثر ہوگا بلکہ امن مشن کی مجموعی مؤثریت پر بھی منفی اثر پڑے گا۔

جنوبی سوڈان کا بحران اور اقوام متحدہ

جنوبی سوڈان نے طویل جدوجہد کے بعد 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کی تھی، لیکن آزادی کے بعد سے ہی یہ ملک شدید سیاسی عدم استحکام، نسلی فسادات اور بدترین انسانی بحران کی زد میں ہے۔

مزید پڑھیں:سوڈان ایسی کھائی میں دھنستا جارہا جس کے اثرات ناقابل تصورہیں: اقوام متحدہ کا انتباہ

لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کا امن مشن یہاں 2011ء سے تعینات ہے، جس کا مقصد متحارب گروہوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا اور قحط زدہ علاقوں تک امداد پہنچانا ہے۔

مشن کی توسیع اور عالمی تقسیم

سلامتی کونسل میں روس اور چین کا ووٹنگ میں حصہ نہ لینا عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں مغربی ممالک اور پاکستان جیسے شراکت دار مشن کی مضبوطی پر زور دے رہے ہیں، وہیں بعض طاقتیں مشن کے طریقہ کار یا خود مختاری کے معاملات پر معترض نظر آتی ہیں۔

پاکستان کا تحفظات کے باوجود حمایت کرنا اس کی ’پیس کیپنگ‘ روایات کا تسلسل ہے، لیکن عثمان جدون کا نفری میں کمی سے متعلق انتباہ نہایت حقیقت پسندانہ ہے، کیونکہ جنوبی سوڈان جیسے کٹھن جغرافیائی خطے میں انسانی طاقت کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔

Related Articles