ایران جنگ نے امریکا کو بڑی مشکل میں ڈال دیا، اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے

ایران جنگ نے امریکا کو بڑی مشکل میں ڈال دیا، اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے

ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں کے اثرات اب امریکا کے عالمی دفاعی تعلقات پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں جہاں امریکی اسلحہ کے تیزی سے استعمال اور ذخائر میں کمی کے باعث واشنگٹن نے یورپی اتحادیوں کو ممکنہ تاخیر سے خبردار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا نے اپنے متعدد یورپی اتحادی ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ انہیں فراہم کیے جانے والے اسلحے اور دفاعی ساز و سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ امریکی فوجی ذخائر کا بڑا حصہ اس وقت ایران کے خلاف جاری جنگی مہم میں استعمال ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے برطانیہ، پولینڈ، لیتھوانیا اور ایسٹونیا سمیت اہم اتحادی ممالک کے نمائندوں کو واضح طور پر بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دفاعی برآمدات کے شیڈول متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے یورپ میں دفاعی منصوبہ بندی، علاقائی سلامتی اور روس سمیت دیگر خطرات کے تناظر میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقاصد مکمل ہونے تک کارروائی جاری رکھیں گے ، ٹرمپ کا ایران سے جلد پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

ماہرین کے مطابق امریکا طویل عرصے سے اپنے اتحادیوں کو جدید دفاعی نظام، گولہ بارود اور عسکری سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے تاہم ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی دباؤ نے امریکی دفاعی صنعت پر غیر معمولی بوجھ ڈال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کو اب اپنے اسٹریٹجک ذخائر اور بیرونی سپلائی لائنز کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

 اگر یہ تاخیر طویل ہوتی ہے تو یورپی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپ پہلے ہی مشرقی سرحدوں پر سلامتی کے خدشات سے دوچار ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ نے اس خدشے کو بھی تقویت دی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عالمی دفاعی تجارت، اتحادی تعلقات اور اسلحہ کی رسد کے نظام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال امریکا کے لیے ایک بڑے اسٹریٹجک امتحان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جہاں اسے ایک طرف جنگی محاذ سنبھالنا ہے تو دوسری جانب اپنے اتحادیوں کے اعتماد کو بھی برقرار رکھنا ہے۔

editor

Related Articles